اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق آیۃ اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے پیر کے روز تہران میں عراق کے وزیر پٹرولیم عادل عبد المھدی کے ساتھ ملاقات میں، داعش دہشت گرد گروہ پر عراقی عوام کی کامیابیوں کو، اس ملک کی تاریخ کا ایک قیمتی حصہ قرار دیا۔

تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے، عراق کے شیعہ، سنی اور کردوں اور دیگر قومی و مذہبی فرقوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو اہم بتاتےہوئے کہا کہ عراقی گروہوں نے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ اگر حکومت ہمہ گير ہو اور سارے عراقی عوام مراجع کرام کی باتوں پر متحد ہوں تو پھر دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے ۔ آیۃ اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اس سال اربعین حسینی میں عوام کے عظیم اجتماع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے کاش دنیا کے ذرائع ابلاغ اس پروگرام کی حقیقی تصویر پیش کرتے تاکہ دنیا والے یہ دیکھ لیتے کہ کس طرح سے لوگ رضاکارانہ طور پر مذہبی مراسم کے انعقاد کے لئے آتے ہيں اور خطرے سے خوف نہیں کھاتے۔

اس ملاقات میں عراق کے وزیر پٹرولیم عادل عبدالمھدی نے بھی عراق کی داخلی صورتحال اور داعش کے خلاف عراقی فوج کی تدریجی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس جارح گروہ کے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ داعش کے افراد اپنے زیر قبضہ علاقے موصل ميں لوگوں کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ بھی سلفی اور تکفیری ہوجائيں اور انہوں نے حضرت رسول خدا (ص) کی ولادت کا جشن منانے پر پابندی لگادی تھی جبکہ ساری دنیا میں آنحضرت کی ولادت کی خوشیاں منائی جارہی تھیں ۔ عراق کے وزیر پٹرولیم نے گذشتہ برسوں میں ایران اور عراق کی ماضی کے تعاون اور دنیا میں تیل کی ضرورت پوری کرنے میں ان دونوں ملکوں کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے بعض ممالک مالی ضرر کے باوجود یہ نہيں چاہتے ہيں کہ تیل حقیقی قیمت میں فروخت کیا جائے، ایسے میں ایران اور عراق کے درمیان تعاون کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
.......
/169